RSS

حج 2012

06 نومبر

فرضیت حج کی سعادت عظمی ہمارے آقا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ساتھ مختص ہے گو کہنے کو تو حج کا رواج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے ہے مگر اس وقت اس کی فرضیت کا حکم نہ تھا۔ چنانچہ صحیح مسلک یہی ہے کہ
حج کب فرض ہوا؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں سن ٥ھجری میں فرض ہوا، اکثر علما سن ٦ھجری میں فرضیت کے قائل لیکن زیادہ صحیح قول ان علماء کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حج سن ٩ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج (ضروری ) ہے اور یہ اس شخص پر جو وہاں تک جا سکے۔
چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فعال حج کی تعلیم میں مشغولیت اور آئندہ سال کے لئے سفرحج کے اسباب کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے خود حج کے لئے تشریف نہیں لے جاسکے، بلکہ اس سال یعنی سن ٩ھ میں حضرت ابوبکر کو حاجیوں کا امیر مقرر فرماکر مکہ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کو حج کرادیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود سال آئندہ یعنی سن ١٠ھ میں اس حکم الٰہی کی تعمیل میں حج کے لئے تشریف لے گئے یہ عجیب اتفاق ہے کہ فرضیت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی پہلا حج کیا جو آخری حج بھی ثابت ہوا۔ چنانچہ یہی حج ” حجۃ الوداع” کے نام سے مشہور ہے اسی حج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ عالمتاب اور وجود پر نور نے اس دنیا سے پردہ کیا۔

 

ٹیگز: , , , , , , , , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: